News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
72460
  • اموات 1543
  • سندھ 28245
  • پنجاب 26240
  • بلوچستان 4393
  • خیبرپختونخوا 10027
  • اسلام آباد 2589
  • گلگت بلتستان 711
  • آزاد کشمیر 255

 

عوام کےلئےپریشانی کی اصل وجہ ۔۔

عوام کےلئےپریشانی کی اصل وجہ ۔۔
اپ لوڈ :- ہفتہ 22 فروری 2020
ٹوٹل ریڈز :- 132

ملک عجیب معاشی صورتحال سےدوچارہے۔ عوام کی اکثریت بری حالت میں پڑی کراہ رہی ہےلیکن حکومت سب اچھاہےکاراگ الاپ رہی ہے؟ گورنرسٹیٹ بنک ایک سانس میں کہتےہیں کہ پاکستان کی برآمدات انتہائی کم ،افغانستان ، سوڈان اورایتھوپیاکےساتھ کھڑاہے،ملک ایسےنہیں چل سکتےلیکن دوسرےہی لمحےیہ بھی کہتےہیں کہ ملک کےاکنامک انڈیکیٹرزپہلےسےبہت بہترہوگئےہیں اوروزیراعظم عمران بھوک ، مہنگائی اوربیروزگاری کےہاتھوں بلکتےعوام کےزخموں پرگاہےبگاہےیہ کہہ کرنمک پاشی کرتےرہتےہیں کہ مشکل حالات سےباہرنکل آئےہیں ۔ 
 
 اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 14سے15فیصد، اشیائےخورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں ، ٹیکسزڈرائونےخواب کاروپ دھارکرفائلرزکوڈرانےمیں لگےہوئےہیں ، گروتھ ریٹ کےبارےمیں ملک کےچوٹی کےماہرین معاشیات کہہ چکےہیں کہ رواں سال یہ ایک فیصدسےبھی کم رہنےکاامکان ہے ۔ گروتھ ریٹ اس حدتک کم ہونےکامطلب ہےکہ ملک میں معاشی سرگرمیاں نہ ہونےکےبرابرہونگی جس سےبیروزگاری اورغربت کی شرح حدسےبڑھ جائےگی ۔ معروف ماہرمعاشیات ڈاکٹرحفیظ پاشاکےمطابق موجودہ حکومت کےدوسال کےاندراندربائیس لاکھ کےقریب افرادبیروزگارہوجائیں گےجبکہ مزیدایک کروڑافرادخط غربت سےنیچےجاگریں گے۔ 
 
 
 ماہرمعاشیات اورلمزمیں اسسٹنٹ پروفیسرفیصل باری ڈان میں لکھےگئےاپنےایک حالیہ مضمون میں ملکی معاشی صورتحال پرتبصرہ کرتےہوئےلکھتےہیں کہ مہنگائی اوربیروزگاری کی شرح بڑھتی جارہی ہے، آمدنی میں فرق کی وجہ سےطبقاتی ناہمواری میں اضافہ ہورہاہے، ایکسپورٹس کابراحال ہے، امپورٹس بھاری بھرکم ٹیکسوں کی وجہ سےپہلےہی بہت کم ہوچکی ہیں ، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں گروتھ ریٹ منفی ہے، زراعت بھی اچھی نہیں جارہی اورعوام کی اکثریت خراب معاشی حالات کےاثرات کوبھگت رہی ہے ۔ لیکن دوسری طرف حکومت ہےکہ معاشی استحکام پراطمینان کااظہارکرتےنہیں تھکتی ۔ حکومت کےمطابق ملک کامجموعی خسارہ ٹارگٹ سےکم ہے، تجارتی خسارہ کم ہواہے، شرح مبادلہ میں استحکام ہے، ٹیکس کلیکشن بڑھ رہی ہے۔ حکومت کےمطابق بین الاقوامی ادارےبھی پاکستان کی معاشی ترقی کوتسلیم کررہےہیں ۔
 
  احساس ، کامیاب جوان ، لنگرخانےاورپناہ گاہ جیسےحکومتی منصوبوں سےعوام کی انتہائی قلیل تعدادکووقتی ریلیف تومل سکتاہےلیکن ملک کولاحق سنگین معاشی بیماریاں ٹھیک نہیں ہوسکتیں ۔ ملک کےچوٹی کےماہرمعاشیات اکبرزیدی نےکچھ روزپہلےڈان میں ایک مضمون لکھاجس کےمطابق : "مسلسل دس سال تک ترقی کےراستےپرگامزن معیشت کوتباہی کےدہانےپرلاکھڑاکیاگیاہے۔ آئی ایم ایف کےپاس جانےمیں دس ماہ کی تاخیرمہلک ثابت ہوئی کیونکہ اگرحکومت 
"بنانےکےفورابعدآئی ایم ایف سےرجوع کرلیاجاتاتوکڑی شرائط سےبچاجاسکتاتھا۔
 
 
بقول اکبرزیدی ،معیشت کوتباہ کرنےکےبعداس حکومت نےحقیقی معیشت کوتباہ کردیاہے۔ حکومت کےلاکھ دعووں کےباجودوہ تمام عوامل جن سےایک عام آدمی کی زندگی میں بہتری آتی ہےانتہائی خراب حالت میں ہیں اوران کےمزیدخراب ہونےکاخدشہ برقرارہے۔ تحریک انصاف کی اپنی کوئی اکنامک پالیسی نہیں ۔ اس کی اقتصادی پالیسی آئی ایم ایف سےکئےگئےمعاہدےہیں جنہیں آٹوپائلٹ پرلگاکرچلایاجارہاہے۔ مطلب چپ کرکےبیٹھواورجوآئی ایم ایف کہتاہےوہ کرتےجاو۔ یوں محسوس ہوتاہےکہ جیسےحکومت کولوگوں کی مشکلات کابالکل بھی احساس نہیں ۔ سمجھ نہیں آتاکہ غربت کی لائن سےنیچےجاتےلوگ زندہ کیسےرہیں گے؟ جوحکومت عوام سےزیادہ کسی اورکوجوابدہ ہو،اسےعوام کااحساس ہوبھی کیسےسکتاہے۔
 
 
 اس قدردگرگوں معاشی وسیاسی حالات پرتبصرہ کرتےہوئےسینئرصحافی وتجزیہ کارجناب زاہدحسین کہتےہیں کہ حدسےزیادہ غروراورنااہلی کےملاپ سےبنی پی ٹی آئی حکومت بغیرچپوکےوہ کشتی ہےجوکسی بھی وقت چٹان سےٹکراسکتی ہے ۔ پراجیکٹ عمران خان اس قدرجلدایکسپوزہوجائےگا،اس کااندازہ بالکل بھی نہیں تھا ۔ اب توانہیں لانےوالےبھی سرپکڑکربیٹھےہیں کہ کریں توکیاکریں ؟
 
 جناب فیصل باری کےبقول : مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت موجودہ خراب معاشی حالات سےکیسےنکلےگی ، مسئلہ یہ ہےکہ حکومت کےپاس معاشی مسائل سےنکلنےکاکوئی پلان ہی نہیں اوراصل پریشانی کی بات بھی یہی ہے۔ 
 
 

Muhammad Zaheer

The author is a journalist. He is currently working for a news channel.

Muhammad Zaheer مزید تحریریں

Muhammad Zaheer

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.