News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
374173
  • اموات 7662
  • سندھ 162227
  • پنجاب 114010
  • بلوچستان 16744
  • خیبرپختونخوا 44097
  • اسلام آباد 26569
  • گلگت بلتستان 4526
  • آزاد کشمیر 6000

 

لیاقت علی خان سے عمران خان تک

لیاقت علی خان سے عمران خان تک
اپ لوڈ :- اِتوار 04 اگست 2019
ٹوٹل ریڈز :- 297

پاک امریکا تعلقات کی کہانی کسی سنسنی خیزفلم جیسی ہے۔ ہمیشہ  بدلتے رجحانات،رویئے اور مفادات اِن تعلقات کا اساس ہیں   ۔آج کا جنوبی ایشیاء جہاں پاکستان اور بھارت  واقع ہیں اور دونوں پڑوسی ایٹمی طاقتوں کے مابین مسئلہ کشمیر سلگتی چنگاڑی ہے۔یہ خطہ ابھرتی ہوئی معاشی طاقت چین کی پالیسیوں کے باعث دنیا بھر میں اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ایسے وقت میں امریکہ افغان جنگ سے خلاصی ضرور چاہتا ہے لیکن اپنے پنجے جنوبی ایشیاء میں گاڑے رکھے گا ۔اس مقصد کیلئے امریکہ کا بڑا اتحادی بھارت ہوگا پاکستان نہیں ۔ خطے میں  روس کی نظریں بھی جمی ہیں،جس کے قریب پہلے بھارت  تھا اور اب پاکستان  بھی ہورہاہے۔ پاک امریکا تعلقات میں روس ہمیشہ   کسی نہ کسی طرح اہمیت کا حامل رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ میں بھی  پاکستان  کی روس سے بڑھتی قربت کا اہم کردار تھا۔

پاکستان  اپنے محل وقوع کی وجہ سے کتنا اہم ہے اس بات کا اندازہ امریکہ کو پہلے نہ تھا،اب ہوچکاہے۔ماضی میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان نے روس کی بجائے امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔اس وقت گرم پانیوں تک رسائی کیلئے  روس کی جارحیت سے خطے میں کئی خطرات منڈلا رہے تھے۔اور روس میں کیمونزم  کے باعث بھی پاکستان نے امریکی کیمپ میں جانے کو فوقیت دی  ۔اُس وقت امریکی وزیرداخلہ جارج مارشل سے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے برملا کہاکہ  پاکستان کیمونزم کی طرف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ ایسا کرنا ہمارے اسلامی عقائد اور نظریات کے خلاف ہوگا۔لیاقت علی خان کے اس واضح موقف   کے بعد امریکہ نے پاکستان کو نظرانداز کردیا اور  بھارتی وزیراعظم جواہرلال نہرو کو دورہ امریکہ کی دعوت دے دی ۔ پھر وزیراعظم لیاقت علی خان کی طرف سےبھی  دورہ روس کی بات سامنے آگئی۔بیک ڈور ڈپلومیسی کام کرگئی اور روسی صدر  نے2جون 1949ءکو پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان کو روس کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت  دی ۔ اب امریکہ کو غلطی کا احساس ہوا اور پاکستان کو  پیغام دیا کہ لیاقت علی خان روس کی دعوت مسترد کردیں تو امریکی صدر  لیاقت علی خان کو امریکہ بلانے کیلئے تیار ہیں۔ پاکستان کی طرف سے روس کو جواب دے کر وزیراعظم  کے  دورہ امریکہ کی دعوت قبول کرلی گئی۔ماضی میں وزیراعظم لیاقت علی خان اور آج وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ  کے محرکات میں کافی مماثلت ہے۔امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان سے آنکھیں پھیر لیں۔ پھرپاکستان میں چین کے سی پیک منصوبہ سمیت  روسی صدر پیوٹن اور پاکستانی وزیراعظم  عمران خان  میں  عالمی فورمز  پر دکھائی دینے والی  قربت سمیت پاک روس روابط کے فروغ  نے امریکہ کو   سوچ  بدلنے پر مجبور کردیا ۔ 

آپ چاہیں یا نہ چاہیں امریکہ کے ساتھ اچھے  تعلقات رکھنے پڑتے ہیں،یہ الفاظ وزیراعظم عمران خان کے ہیں،جب دورہ امریکہ کے موقع پر  واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک " انسٹی ٹیوٹ آف پیس " میں خطاب کررہے تھے ۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم امریکہ سے امداد نہیں بلکہ تجارت اور برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔ اور ہم خود بھی دفاعی پوزیشن میں ہیں اس لئے ڈو  مور کا مطالبہ کیسے کیا جاسکتا ہے ۔  اس دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کی پیشکش کی اور افغانستان سےامریکی افواج کے انخلاء سمیت   افغان امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے پاکستان کے  کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی افغانستان میں امن کے لئے طالبان سے ملاقات  سمیت ایران امریکہ کشیدگی ختم کرنے کے لئے اپناکردار ادا کرنے کی امید کااظہار کیا۔دونوں رہنماوں نے جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لئے باہمی تعلقات  کے فروغ اور مل کر کام کرنے کا اعادہ بھی کیا ۔

اب وزیراعظم عمران خان کے ستمبرمیں دورہ روس کا امکان  ہے ۔وزیراعظم کو روسی صدر پیوٹن  نے ایس سی او سمٹ میں شرکت کی دعوت دے رکھی ہے ۔ 13جون کو شنگھائی  تعاون تنظیم  کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر بشکک میں وزیراعظم اور روسی صدر پیوٹن کی غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی ۔ روسی صدرنےاظہارکیا تھا کہ انہیں خوشی ہوگی اگر پاکستانی وزیراعظم عمران خان  روس میں کثیرالملکی کانفرنس میں شرکت کریں۔جس پر وزیراعظم عمران خان  نے روسی صدر کی دعوت کو خوشدلی سے قبول کرتے ہوئے شکریہ ادا  کیا اور کثیرالملکی کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی تھی۔اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ستمبر میں روس میں ہونے والے کثیرالملکی ایسٹرن اکنامک فورم میں جائیں گے ۔ ایسٹرن اکنامک فورم 4ستمبر سے6ستمبر تک روس کے شہر ولادی وستوک میں ہوگا، جو بحرالکاہل میں موجود روس کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔اس کانفرنس کے موقع پر ایک مرتبہ پھر پاک بھارت وزرائے اعظم بھی ایک جگہ موجود ہوں گے ۔

جنوبی ایشیاء کی موجودہ صورتحال میں پاکستان اور روس کی افواج کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے۔ پاکستان روس کے ساتھ دفاعی تعاون مزید بڑھانا چاہتا ہے ۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ روس سے اسلحہ کی خریداری کا فی الحال ہمارا کوئی ارادہ نہیں،اسلحے پر خرچ ہونے والی بھاری رقم انسانی ترقی کے لئے استعمال کریں گے۔وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ اب 60ء کی دہائی جیسے حالات نہیں رہے جبکہ پاکستان اور بھارت دونوں امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور اب سرد جنگ جیسی صورت حال کا سامنا بھی نہیں  ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں پاک روس تعلقات کا نیا دور شروع ہونے کی امید ہے وہاں صدر ٹرمپ کے نریندر مودی  کی طرف سے  مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے  درخواست کے بیان پر بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں گہری دراڑ   پڑگئی۔

mughal_khalil@ymail.com

Khalil Mughal

Mr. Khalil Mughal is a senior journalist with a long career. He has served in the leading media organizations in Pakistan. Currently, he is associated with Express News.

Khalil Mughal مزید تحریریں

Khalil Mughal

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.