News Makers

تازہ ترین

کورونا وائرس پاکستان میں مصدقہ کیسز
251492
  • اموات 5264
  • سندھ 105533
  • پنجاب 87043
  • بلوچستان 11185
  • خیبرپختونخوا 30486
  • اسلام آباد 14023
  • گلگت بلتستان 1658
  • آزاد کشمیر 1564

 

اور اب بیویاں بھی اسکول جائیں گی ؟

اور اب بیویاں بھی اسکول جائیں گی ؟
اپ لوڈ :- اِتوار 16 جون 2019
ٹوٹل ریڈز :- 171

پتا نہیں شاعرنےیہ مصرعہ کس مقصداورموقعےکیلئےکہاتھا لیکن مجھےتواس کی وجہ سمجھ آگئی ہے۔ جب ہم چھوٹےتھےتوبچےکوپانچ سال کی عمرمیں سکول بھیجاجاتاتھا۔۔اس سےپہلےتوکوئی اس بارےمیں سوچتابھی نہیں تھا۔ پھروقت بدلااوروالدین چار سال کی عمر میں بچوں کوسکول بھیجنےلگے۔ یہ عجیب اس لئے نہیں لگا کیونکہ ایک سال کافرق کچھ زیادہ نہیں۔ وقت نےپھرکروٹ لی اوردیکھتے ہی دیکھتےتین سال کی عمرکےننھےمنےبچےسکول جانےلگے۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ چلوتم ادھر کوجدھرکی ہواہو،رہن  سہن اوررویوں میں آنےوالی یہ تبدیلی بھی آہستہ آہستہ آنکھوں میں رچ بس گئی لیکن اب تو حدہی ہوگئی ہے،دودوسال کےدودھ پیتےبچوں کیلئےبھی سکولوں میں سپیشل کورسزمتعارف کرائےجارہےہیں۔ بہت سےلوگ کہیں گےکہ بھائی دو سال کےبچوں کےسکول جانےسےمجھےکیاتکلیف ہےتوعرض ہےکہ جناب مجھےاعتراض کوئی نہیں، میری پریشانی کی وجہ تو کچھ اورہے۔

اسےمیراڈرکہیں یاخدشہ،بات پانچ سےدوپرآگئی تودوسےایک ،حتیٰ کہ اس سےبھی پیچھےآنےمیں زیادہ دیرنہیں لگنےوالی اورمجھےلگتاہےوہ دن آئےکہ آئےجب حاملہ عورتوں کےلئےبھی سکول میں بھی کلاسزشروع ہوجائیں گی۔عین ممکن ہےحاملہ عورتوں کیلئےسکول ہی الگ سےکھل جائیں۔

شوہروں کیلئےاس صورتحال میں مصیبت کھڑی ہوجائےگی،بیویاں دیگرفرمائشوں کےساتھ ساتھ ان سےاصرارکیاکریں گی:سنیں جی،وہ ساتھ والےناصرصاحب کی  بیوی نےانگلش میڈیم سکول میں داخلہ لیاہے،مجھےبھی اسی سکول میں جاناہے،شوہربیچارہ اگرکم آمدنی کاحامل ہوگاتوبولےگا:دیکھوبیگم ناصرکےپاس توحرام کی کمائی ہے،میں توتمہیں اس سکول میں داخلہ لیکرنہیں دےسکتا۔تم یوں کروکہ وقتی طورپرساتھ والی گلی کےسکول میں داخلہ لےلو،اس کاپرنسپل میرادوست ہے،ہم سےایڈمیشن فیس بھی نہیں لےگا۔۔۔میری اس سےبات ہوگئی ہے،اس نےوعدہ کیاہےوہ ہمارےبچےپرخصوصی توجہ دےگا۔

کلاس رومزمیں بھی عجب صورتحال ہوگی۔ اب سٹوڈنٹس جنہیں پڑھاناہے،وہ توسامنےموجودنہیں ہونگے،ٹیچرزپڑھائیں گی کیسے؟ہوسکتاہےمہنگےنجی سکول اس مشکل کابھی کوئی نہ کوئی حل نکال لیں لیکن میری ناقص عقل کےمطابق اس مشکل کا ایک آسان اور سیدھاساحل یہ ہےکہ جوحاضرہیں انہیں غیرحاضراورجوبظاہرغیرحاضرہیں انہیں حاضرسمجھاجائے۔  

مثال کےطورپرٹیچرکلاس میں آئےگی توکوئی کھڑانہیں ہوگا،کیونکہ جنہوں نےکھڑاہوناہےوہ بیچارےتولیٹےہوئےہیں اورجوکھڑی ہوسکتیں ہیں ان کےلئےبارباراٹھنابیٹھناایک مسئلہ ہوگا۔ لہٰذاٹیچرکلاس میں آئےگی توخودبخودیہ سمجھ لیاجائےگاکہ کلاس سٹینڈ ہوئی ہے۔بالکل یہی فارمولاپڑھائی میں بھی استعمال کیاجائےگا۔یعنی ااامائیں بھلےایکدوسرےکےساتھ خوش گپیوں میں مشغول رہیں،ٹیچرزاپنےسٹوڈنٹس کوپڑھاتی رہیں گی۔ ایسی ٹیچرکواگرآپ دورسےدیکھیں گےتولگےگاکوئی اپنےآپ سےباتیں کررہاہے۔کچھ دیرکیلئےاپنےتخیل کوجگائیےاورتصورکیجئےکہ اگرسچ میں ایساہوجاتاہےتویہ دنیاکیاسےکیاہوجائےگی۔انسانوں سےزیادہ انسانی شکل میں چلتےپھرتےروبوٹس کی دنیابن جائےگی،جہاں کسی انسانی جذبےکیلئےکوئی جگہ نہیں  ہوگی،باتیں تو اور بھی بہت ہیں لیکن مضمون کوسمیٹتےہوئےآخرمیں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ اگراسی طرح ہم الٹی گنگاکی رومیں بہتےچلےگئےتومنزل پرہرگزنہیں پہنچ پائیں گے،البتہ بھٹک ضرورجائیں گے۔اب فیصلہ آپ نےکرناہے،منزل پرپہنچناہےیامنزل سےدورہوتےجاناہے۔

 

Muhammad Zaheer

The author is a journalist. He is currently working for a news channel.

Muhammad Zaheer مزید تحریریں

Muhammad Zaheer

Copyright © 2018 News Makers. All rights reserved.